Saturday, July 28, 2012

یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں




یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں
ان میں خوابیدہ سب زمانے ہیں
سارے پھول ان کے نام لیوا ہیں
چاند تاروں میں ان کی باتیں ہیں
ان کی باہوں میں سب سمندر ہیں
گیت دریا انہی کا گاتے ہیں
ان سے چلتی ہے عشق کی دنیا
شعر سب ان کی وارداتیں ہیں
آسماں ان کا اک تصور ہے
وقت بے چارہ ان کا نوکر ہے
ان کی ہر بات مے کا پیالہ ہے
ان سے ہر سمت پہ اجالا ہے
ان میں گزرے دنوں کا جادو ہے
ان میں آتی رُتوں کی خوشبو ہے
چاندنی ان میں دھوپ ان میں ہے
حسن کا سارا روپ ان میں ہے
دکھ کی گہرائیاں بھی ان میں ہیں
سکھ کی انگڑائیاں بھی ان میں ہیں
ان میں خوابوں کی وہ کتاب بھی ہے
دل کا ٹوٹا ہوا رباب بھی ہے
میری ساری خوشی انہی سے ہے
دل میں یہ روشنی انہی سے ہے
یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں

Tuesday, July 24, 2012

آج کی شام گنوانے کے لئے





آج کی شام ہوا ہے نہ گھٹا
آسماں چادرِ تاریک، تہی
کرب کا پھیلتا صحرائے فنا
لوگ کہتے ہیں کہ دو چار گھڑی
چاند نکلا تھا مگر ڈوب گیا

دُور سوکھے ہوئے پیڑوں کے ہجوم
جیسے قبروں پہ صلیبوں کے نشاں
جیسے کاٹے ہوئے ہاتھوں کے علم
صحن زنداں میں ہر اک سمت اترتے سائے
جیسے ناؤ کو نگلتی ہوئی طغیانی نیل
جیسے کعبہ کی طرف بڑھتا ہوا لشکرِ فیل
میں نے کھڑکی کی سلاخوں میں کہیں
چاند سورج کی بنا کر شکلیں
ایک تصویر سجا رکھی ہے
ایک سُولی سی لگا رکھی ہے
رسمِ مقتل ہے یہی
کل بہت پھوٹ کے روئی تھی گھٹا
جیسے اُمید کوئی ٹوٹ گئی

اتنا پانی ہے کہ ہم غرق بھی ہو سکتے ہیں
آؤ کاغذ سے کوئی ناؤ بنا لیتے ہیں

رسمِ زنداں کو نبھانے کے لئے
آج کی شام گنوانے کے لئے

نارسائی




سنو!
اگر فرصت ملے اور میں یاد آؤں
یاد رکھنا
مجھے آنسو کی طرح
پلکوں پر مت سجا لینا
کہ آنسو اور پلکوں میں
جدائی کا رشتہ ہے
نارسائی کا رشتہ ہے
بیوفائی کا رشتہ ہے 
سنو!
جو پل میری جدائی میں گزرے ہیں
نارسائی میں گزرے ہیں
بیوفائی میں گزرے ہیں
انہیں تم بھلا دینا
ہاں!مگر
میری بات اور ہے
میں چاہوں بھی تو
تیرے حصار سے نکل نہیں سکتا
جی تو جاؤں گا پر سنبھل نہیں سکتا
میرے چارہ گر
تجھے کیا خبر
میں تو عمر بھر
تیرے ساتھ تھا
تیرے ساتھ ہوں
چاہوں بھی تو بدل نہیں سکتا

Sunday, July 22, 2012

ہم مسافر ہیں میری جان مسافر تیرے






ہم مسافر ہیں میری جان مسافر تیرے
ہم تو بارش سے بھی ڈر جاتے ہیں
اور دھوپ سے بھی
اپنے قدموں کے نشانوں سے مٹائیں جو لہُو کے دھبے
راستے غصے میں آ جاتے ہیں
ہم مسافر ہیں
کرایوں کو ترستے ہوئے خیموں میں گھِرے
گھر سے گھبرائے ہوئے یونہی ہوا کرتے ہیں
اجنبی شہروں کے واہموں میں پڑے
خوف اور عدم تحفظ سے چُراتے ہیں نگاہیں
تو کہیں اور ہی جا پڑتے ہیں
کب تلک کون ہمیں رکھے گا مہمان محبت کے سِوا
اور کسی روز ہمیں یہ بھی کہے گی کہ خدا ہی حافظ
ہم جو لوگوں سے جھجھکتے ہیں تو مجبُوری ہے
ہم جو رستوں میں بھٹکتے ہیں تو محصُوری ہے
ہم مسافر ہیں میری جان مسافر تیرے
ہم اگر تجھ سے بچھڑتے ہیں تو مہجُوری ہے

تمہیں کتنا یہ بولا تھا



تمہیں کتنا یہ بولا تھا
کہ میری زندگی میں اس طرح شامل نہیں ہونا
جب آنکھیں صبح کو کھولوں
پکاروں نام میں تیرا
کبھی جب آئینہ دیکھوں
تمہارا عکس میری آنکھ کی پتلی میں جم جائے
خوشی مجھ کو ملے کوئی،
تمہارا ساتھ میں ڈھونڈوں
دکھوں میں بھی یہی چاہوں
کہ میرے پاس ہو بس تم
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے بادل سے، بارش سے،
محبت ہے ہمیشہ سے
مگر تم نے محبت کو جنوں میں کیوں بدل ڈالا
میں اب بارش کے موسم میں
تمہی کو ڈھونڈتا کیوں ہوں؟
انہی سوچوں میں بھیگا ہوں
میں تنہا بھیگتا کیوں ہوں
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مری عادت نہیں بدلو
مری خاطر نہیں بدلو
مگر تم نے بدل ڈالا
مرا سب کچھ بدل ڈالا
میں اب جو خود کو تکتا ہوں
مجھے تم یاد آتی ہو
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے تم یاد مت آنا
کہ تم کو بھولنا ویسے ہی
میرے بس سے باہر ہے
مجھے جب یاد آتی ہو
تو یہ محسوس ہوتا ہے
مجھے تم یاد کرتی ہو
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے تم یاد مت کرنا 
مجھے تم یاد مت آنا
مری اس زندگی میں
اس طرح شامل نہیں ہونا
تمہیں کتنا یہ بولا تھا

Saturday, June 30, 2012

ان جھيل سی گہری آنکھوں ميں اک شام کہيں آباد ہو





ان جھيل سی گہری آنکھوں ميں اک شام کہيں آباد ہو
اس جھيل کنارے پل دو پل
اک خواب کا نيلا پھول کھلے
وہ پھول بہاديں لہروں ميں
اک روز کبھی ہم شام ڈھلے
اس پھول کے بہتے رنگوں ميں
جس وقت لرزتا چاند چلے
اس وقت کہيں ان آنکھوں ميں اس بسر ے پل کی ياد تو ہو
ان جھيل سی گہری آنکھوں میں اک شام کہيں آباد تو ہو 
پھر چاہے عمر سمندر کی
ہر موج پريشاں ہو جائے
پھر چاہے آنکھ دريجے سے
ہر خواب گريزاں ہوجائے
پھر چاہے پھول کے چہرے کا
ہر در نمايا ہو جائے
اس جھيل کنارے پل دو پل وہ روپ نگر ايجاد تو ہو
دن رات کے اس آئينے سے وہ عکس کبھی آزاد تو ہو

ان جھيل سے گہری آنکھوں ميں اک شام کہيں آباد تو ہو



Sunday, June 24, 2012

شہرِ برباد میں



شہرِ برباد میں
ایک وحشت کھڑی ہے ہر اک موڑ پر
گرد ناکامیِ عمر کی کوئی سوغات لے کر
ہمارے دلوں کی اداسی
یونہی بے سبب تو نہ تھی
تم نے سمجھا جو ہوتا کسی آرزو کے شکستہ دریچے کی اجڑی ہوئی
داستاں کو کبھی
ہم کو مدت ہوئی
راستہ راستہ
خار و خس کی طرح
گردشیں کاٹتے 
اس سے بڑھ کر بھی ہو گا کوئی خواب صد چاک
ظلمت کا مارا ہوا
کیا دکھوں کی یہ ساری کہانی بھلا خواب ہے؟
ہم تو باز آئے
ایسی کسی خوش گمانی
یا امید سے
خوش گمانی میں ہم تو
اذیت کی ساری فصیلوں کو چھو آئے
صدیوں کی ساری اداسی کو
لمحوں میں ہم نے سمیٹا
مگر
اب بھی وحشت کھڑی ہے
ہر اک موڑ پر
گرد ناکامیِ عمر کی کوئی سوغات لے کر
مسافت کے مارے دلوں کے لیے 

Thursday, June 21, 2012

کیوں خواب ادھورے رہتے ہیں۔۔؟؟



ہم اکثر سب سے کہتے ہیں

کیوں خواب ادھورے رہتے ہیں۔۔؟؟

کیوں یاد کسی کی آتی ہے۔۔؟؟

کیوں درد جگر میں ہوتا ہے۔۔۔؟؟

کیوں اکثر آنکھ کی چلمن میں

اک جالا سا بن جاتا ہے

کیوں قدم لڑکھڑاتے ہیں۔۔۔؟؟

ہم جب بھی چلنے لگتے ہیں

کیوں پلکیں نم ہو جاتی ہیں۔۔؟؟

ہم جب بھی ہنسنے لگتے ہیں

اکثر رات کی تاریکی

یادوں کے زہر اگلتی ہے

کیوں ہجر کا موسم آتا ہے۔۔؟؟

جب وصل کی باتیں ہوتی ہیں

کیوں لوگ دیوانے ہوتے ہیں۔۔۔؟؟

کیوں درد ہزاروں سہتے ہیں۔۔۔؟؟

ہم اکثر سب سے کہتے ہیں

کیوں خواب ادھورے رہتے ہیں۔۔؟؟

Saturday, June 16, 2012

کسی کے چھوڑ جانے سے




کسی کے چھوڑ جانے سے
کسی کے بھول جانے سے
ہماری ذات مرتی ہے
ہماری روح روتی ہے


کہ ہم زندہ تو ہوتے ہیں
مگر دھڑکن کی نگری سے
کوسوں دور ہوتے ہیں
کبھی سانسوں کی گردش کو
پامال کرتے ہیں
کبھی خوشیوں کی دستک کو
تیرگی خیال کرتے ہیں


مگر کوئی پوچھے یہ ہم سے
کسی کے چھوڑ جانے سے
کسی کے بھول جانے سے
تمھاراحال کیسا ہے؟
تو ادائے دلبری سے ہم
ہنس کر اس سے کہتے ہیں
کسی کے چھوڑ جانے سے
کسی کے بھول جانے سے
بھلا کون مرتا ہے

Friday, June 15, 2012

عجب دن تھے محبت کے




عجب دن تھے محبت کے 
عجب موسم تھے چاہت کے 
کبھی گر یاد آ جائیں 
تو پلکوں پر ستارے جھلملاتے ہیں 
کسی کی یاد میں راتوں کو 
اکثر جاگنا معمول تھا اپنا 
کبھی گر نیند آ جاتی تو ہم یہ سوچنے لگتے 
ابھی تو وہ ہمارے واسطے رویا نہیں ہو گا 
ابھی سویا نہیں ہو گا 
ابھی ہم بھی نہیں روتے 
ابھی ہم بھی نہیں سوتے 
سو پھر ہم جاگتے تھے اور اسکو یاد کرتے تھے 
اکیلے بیٹھ کر ویران دل آباد کرتے تھے 
ہمارے سامنے تاروں کے جھرمٹ میں 
اکیلا چاند ہوتا تھا 
جو اس کے حسن کے آگے بہت ہی ماند ہوتا تھا 
فلک پر رقص کرتے انگنت روشن ستاروں کو 
جو ہم ترتیب دیتے تھے 
تو اس کا نام بنتا تھا 
ہم اگلے روز جب ملتے تو 
گزری رات کی بے کلی کا ذکر کرتے تھے 
ہر اک قصہ سناتے تھے 
کہاں کس وقت 
کس طرح سے دل دھڑکا بتاتے تھے 
میں جب کہتا کے 
آج تو میں رات کو اک پل نہیں سویا جاناں۔ 
تو وہ خاموش رہتی تھی 
مگر اس کی نیند میں ڈوبی ہوئی دو جھیل سی آنکھیں 
اچانک بول اٹھتی تھیں 
میں جب اس کو بتاتا تھا کے 
میں نے رات کو روشن ستاروں میں 
تمہارا نام دیکھا ہے 
تو وہ کہتی تم جھوٹ کہتے ہو 
ستارے میں نے دیکھے تھے 
اور ان روشن ستاروں میں تمہارا نام لکھا تھا 
عجب معصوم لڑکی تھی ، مجھے کہتی تھی 
لگتا ہے کے اب اپنے ستارے 
مل ہی جائیں گئے 
مگر اسکو کیا خبر تھی 
کنارے مل نہیں سکتے 
محبت کرنے والوں کے 
ستارے مل نہیں سکتے

جب آنکھیں بُجھ کر راکھ ہُوئیں



جب آنکھیں بُجھ کر راکھ ہُوئیں
جب دل کا جوالا سرد پڑا
جب شام و سحر کے صحرا میں
خوابوں کے ستارے ریت ہُوئے
جب عمُر رواں کے مَیداں میں
سب زندہ جذبے کھیت ہوئے
اس وقت مجھے محسوس ہوا
”جس عشق میں ساری عمُر کٹی شاید وہ نظر کا دھوکہ تھا
کرنوں سے کسی کے لہجے میں تنویر تھی میری اپنی ہی
شب تاب بدن کے جادو میں خود میرے لہو کا نشّہ تھا“
کل رات مگر جب کھڑکی پر
مہتاب نے آکر دستک دی
خوشبو کی طرح لہرانے لگی
ہر سمت کوئی سرگوشی سی
”جب آنکھیں بجھنے لگتی ہوں‘ جب دل کا جوالا سرد پڑے
اُس وقت کسی کو کیا معلوم‘ کون اپنا کون پرایا تھا
لہجے میں نشہ تھا کس کے سبب اور کس نے کسے مہکایا تھا

Thursday, June 14, 2012

کسی خوش نگاہ سی آ نکھ نے




کسی خوش نگاہ سی آ نکھ نے یہ کمال مجھ پہ کر م کیا
میر ی لوحِ جاں پہ رقم کیا 
وہ جو ایک چا ند سا حرف تھا ، وہ جو ایک شا م سا نا م تھا
وہ جو ایک پھو ل سی بات پھر تی تھی در بدر
اُسے گلستاں کا پتہ دیا
میر ا دل کہ شہرِ ملا ل تھا اُس روشنی میں بسا دیا
میری آ نکھ اور میرے خواب کو کسی ایک پل میں بہم کیا
میرے آئینو ں پہ جو گرد تھی ماہ وسال کی وہ
اُتر گئی
وہ جو دھند تھی میرے چار سو وہ بکھر گئی
سبھی روپ عکسِ جمال کے
سبھی خواب شام و صال کے
جو غبا رِ و قت میں سر بسر تھے اٹے ہو ئے
وہ چمک اُ ٹھے
وہ جوپھول راہ کی دھول تھے
وہ مہک اٹھے
لیے سات ر نگ بہار کے
چلا میں جو سنگ بہا رکے
کسی دست شعبدہ ساز نے
میرے نام پر میرے وا سطے
میری بے گھری کو پناہ دی
میری جستجو کو نشاں د یا
جو یقین سے بھی حسین ہے مجھے
ایک ایسا گماں دیا
وہ جو ر یزہ ریزہ وجود تھا
اُسے اک نظر میں بہم کیا
کسی خوش نگہ سی آنکھ نے
یہ کمال مجھ پہ کر م کیا

ختم اپنی چاہتوں کا سلسلہ کیسے ہوا



ختم اپنی چاہتوں کا سلسلہ کیسے ہوا
تو تو مجھ میں جذب تھا مجھ سے جدا کیسے ہوا

وہ جو تیرے اور میرے درمیاں ایک بات تھی
آئو سوچیں شہر اسے آشنا کیسے ہوا 

چب گئیں سینے میں ٹوٹی خواہشوں کی کرچیاں
کیا لکھوں دل ٹوٹنے کا حادثہ کیسے ہوا

جو رگِ جاں تھا کبھی ملتا ہے اب رخ پھیر کر
سوچتا ہوں اس قدر وہ بے وفا کیسے ہوا

Friday, June 8, 2012

تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں





تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں
تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں
میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں
میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر
کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں
تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں
اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل
اب تو باقی ہی نہیں کچھ
جسے برباد کریں
تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی
پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے
چُن لیا دردِ مسیحائی
تیری دلدار نگاہی کے عوض
ہم نے جی ہار دیئے
لُٹ بھی گئے
کیسےممکن ہے بھلا
خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں
تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں
اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر
ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے
ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے
بس تیری جیت کی خواہش نے کیا ہم کو نِڈھال
اب اسی سوچ میں گزریں گے ماہ و سال میرے
تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں

Thursday, June 7, 2012

سخن آرائی باقی رہ گئی ہے



سخن آرائی باقی رہ گئی ہے
یہی سچائی باقی رہ گئی ہے

سجانا چاہتے تھے محفل ِ دل
مگر تنہائی باقی رہ گئی ہے

مجھے بھی شوقِ منزل تھا مگر اب
شکستہ پائی باقی رہ گئی ہے

غرور ِ زندگی بننے کو اب تو
مِری رسوائی باقی رہ گئی ہے

زمیں کے سارے منظر چھپ گئے ہیں
مگر بینائی باقی رہ گئی ہے

ہم خود فریبی میں زندگی بِتاتے ہیں



ہم تمام زندگی
خوشیوں کی تلاش میں
بے حساب رنج و غم
اپنے دل پہ سہتے ہیں
جان تک گنواتے ہیں
نم آنکھوں سے ہنستے ہیں
اور خود سے کہتے ہیں
رنج عارضی ہیں یہ
خود فریبی ہے
سُن
اصل میں یوں ہوتا ہے
مختصر سی مدت میں
خوشیاں بیت جاتی ہیں
ہم خود فریبی میں 
زندگی بِتاتے ہیں
ایک چراغ بجھتا ہے
دوسرا جلاتے ہیں
دشت و آس و یاس میں
ننگے پاؤں چلتے ہیں
خوشیوں کی تلاش میں
غم سمیٹ لیتے ہیں

Dil-E-Musafir Udas Mat Ho







Dil-E-Musafir Udas Mat Ho 
Hawa Agerche Phuwar Daman Mein Bher Ke Layee Hai Beykalli Ki 
Faza Agerche Kisee Khamoshi Se Muz,mahel Hai 
Nigaah Mein Koee Raah Had E Niaah Tak Bey Panah Khali Hai 
Din Sawali hai . Raat Kaali Hai 
Shaam Roti Hai 
Man Bhigoti Hai 
Aas Bhi Gerche Bas Khayali Hai' Bas Khayali Hai...... 
Udas Mat Ho 
Magar Tu Phir Bhi Udas Mat Ho 
Udas Mat Ho 
Agerche Lamhon Ki Sard Puron Pe Hijar Likha Hua Hai Barson 
Agerche Waqti Khushi Ke Seene Pe Mustakil Dard Mal Gaya Hai Duaa Ki Sarson 
Agerche Ehsas Ki Ragon Mein 
Koee Andhera Sa Jam Gaya Hai-Khayal Mein Waqt Tham Gaya Hai 
Abhi Koee Intezar Aankhon Se Kam Gaya Hai 
Sitam Gaya Hai Na Koee Ranj O Alam Gaya Hai(Na Sabr Ke Sar Ka Kham Gaya Hai) 
Yeh Sab Tumhare Hi Pairahan Hain 
Abhi Se Yuun Belibas Mat Ho 
Dil-E-Musafir 
Udas Mat Ho 

Abhi To Aankhon Mein Aansoon Ki Buhat Jaga Hai 
Abhi To Raton Ke Jangalon Mein Musafaton Ki Buhat Jaga Hai 
Abhi To Aahon Ke Qafle Mein Buhat Nami Hai 
Abhi To Har Shay Ki Zindagee Mein Buhat Kami Hai 
Abhi Se Yuun Khud Shanas Mat Ho 
Udas Mat Ho 
Dil-E-Musafir 
Udas Mat Ho


سمندر






سمندر !
تری آنکھ میں
کروٹیں بھرتا یہ نیلمی حسن کس نے بھرا ہے
کہ تُو آج تک اُس کی دوری کے دکھ میں
کئی لاکھ صدیوں سے
اپنے بدن میں مقےّد ہے
اور جاں کنی کے عذابوں سے اُلجھا ہوا ہے
سمندر !
کئی لاکھ صدیوں کی اِس بے کلی نے
تری جاں کنی کے عذابوں کو
اور اُس کی دوری کے بوڑھے دکھوں کو
تری اِس محیط اور بسیط آنکھ میں
آنسوئوں کی طرح بھر دیا ہے !
ازل سے تری اِس تڑپتی ہوئی مضطرب آنکھ کا دُکھ
گھنے بادلوں کی وساطت سے
اُس تک رسائی کے صدمے
اُٹھاتا رہا ہے
ترے ساتھ مجھ کو رُلاتا رہا ہے
مرے سب کے سب اشک تیرے لئے ہیں
مگر اے سمندر !
بتا
کیا تری آنکھ کے سارے یاقوت و مرجان
اُس کے لئے ہیں
کہ جس نے تجھے دُور رکھ کر
تری آنکھ میں جان لیوا نشہ بھر کے
بے چینیوں کے عذابِ مسلسل میں رکھا ہوا ہے ؟
سمندر ! تجھے تو ازل سے میں پہچانتا ہوں
مگر کچھ بتا
وہ ترا ''رازداں ''کون ہے
جو کہ سینے میں تیرے
ازل سے کسی غیب کے راز کی طرح مدفون ہے ۔

Wednesday, June 6, 2012

مِرے دشمنوں سے کہو کوئی



مِرے دشمنوں سے کہو کوئی 
کسی گہری چال کے اہتمام کا سلسلہ ہی فضول ہے 
کہ شکست یوں بھی قبول ہے 
کبھی حوصلے جو مثال تھے 
وہ نہیں رہے 
مِرے حرف حرف کے جسم پر 
جو معانی کے پر و بال تھے وہ نہیں رہے 
مِری شاعری کے جہان کو 
کبھی تتلیوں ،کبھی جگنووں سے 
سجائے پھرتے خیال تھے 
وہ نہیں رہے 
مِرے دشمنوں سے کہو کوئی 
وہ جو شام شہر وصال میں 
کوئی روشنی سی لیے ہوئے کسی لب پہ جتنے سوال تھے 
وہ نہیں رہے 
جو وفا کے باب میں وحشتوں کے کمال تھے،وہ نہیں رہے 
مِرے دشمنوں سے کہو کوئی 
وہ کبھی جو عہدِ نشاط میں 
مجھے خود پہ اِتنا غرور تھا کہیں کھو گیا 
وہ جو فاتحانہ خمار میں 
مِرے سارے خواب نہال تھے 
وہ نہیں رہے 
کبھی دشت لشکر شام میں 
مِرے سرخرو مہ و سال تھے، وہ نہیں رہے 
کہ بس اب تو دل کی زباں پر 
فقط ایک قصّئہ حال ہے 
جو نڈھال ہے 
جو گئے دنوں کا ملال ہے 
مِرے دشمنوں سے کہو کوئی

Sunday, June 3, 2012

اے رات کی ہوا



بہت دور تک بکھیر دے اے رات کی ہوا
میری راکھ،میرے خواب،میں نے جو کبھی کہا

اتنی دور کہ گھوڑے کی نعل کی طرح
الفاظ گھس گھس کر بہت تیز ہو جائیں
اس قدر تیز کہ کوئی آنکھ انہیں دیکھ نہ سکے
تعصب کی گہری،موٹی زرہ کے سوا

بہت دور تک بکھیر دے اے رات کی ہوا
میری راکھ،میرے خواب،میں نے جو کبھی کہا

اتنی دور کہ معانی کہیں راستے میں تھک کر
کچھ برگدوں کی چھاؤں میں،کچھ کانٹوں میں اٹک کر
سفر کو بھول جائیں،صعوبتوں سے ڈر کر
اور پھر نہ ہوش آئے ان مدہوشوں کو سدا

بہت دور تک بکھیر دے اے رات کی ہوا
میری راکھ،میرے خواب،میں نے جو کبھی کہا

ان الفاظ کو لے جا ان سرزمینوں کی طرف
جہاں افکار بے مروت اور اقدار بے رحم ہیں
جہاں بھاشائیں مختلف اور اصول نافہم ہیں
پھر ان کو پھرا کوڑھی گداگر کی طرح

بہت دور تک بکھیر دے اے رات کی ہوا
میری راکھ،میرے خواب،میں نے جو کبھی کہا

Saturday, June 2, 2012

ملال



مرا سارا شہر ہی بہہ گیا
مِرے سارے لوگ اُتر گئے
کہیں بے سبب سی منافقانہ فضاؤں میں کے کسی زہر میں
کسی بد گماں سی رات کے کسی پہر میں

مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا
مِرے سارے لوگ اُتر گئے
کوئی تہمتوں،کوئی پانیوں
کوئی دلفریب کہانیوں
کوئی خواہشوں کی گرانیوں
کوئی آنسوؤں کی روانیوں
کوئی سبز کائیوں کی جھیل میں
کوئی سُرخ و خستہ فصیل میں
کوئی آب میں،کوئی خواب میں
کوئی اپنے کردہ عذاب میں
مِرا سارا شہر ہی بہہ گیا
مِرے سارے لوگ اُتر گئے
مِرے سارے خواب بِکھر گئے
اِسی شہر میں
اِسی لہر میں


“اب کے خواب ٹوٹا ہے “



کئی بے قرار آنسو
آنکھوں سے بہہ نکلے تھے
آج کیا ہوا مجھ کو؟
اس طرح سے پہلے تو میں کبھی ٹوٹا نہ تھا

اس سفر زندگی میں کئی موڑ دیکھے تھے
کئی درد کے لمحے، کئی سوگ کی راتیں
کئی روگ کی باتیں
ہنس کے ہم نے سہہ لی تھیں

آنکھیں تب بھی چپ تھیں
دل گرچہ ٹوٹا تھا

پھر!!!

آج کیا ہوا مجھ کو؟
اس طرح سے پہلے تو میں کبھی نہ ٹوٹا تھا 

پر تب کی بات اور تھی شاید

“اب کے خواب ٹوٹا ہے“

مدتوں جسے میں نے آنکھوں میں بسایا تھا
ہاں میرا وہی سپنا
مجھ سے آج چھوٹا ہے

تب کی بات اور تھی شاید

“اب کے خواب ٹوٹا ہے

کون تھا جس سے دل کی حالت کہتا میں



کوئ سایہ اچھے سائیں دھوپ بہت ہے
مر جاؤں گا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

سانولی رت میں خواب جلے تو آنکھ کھلی
میں نے دیکھا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

اب کے موسم یہی رہا تو مر جاۓ گا
اک اک لمحہ اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

کوئ ٹھکانہ بخش اسے جو گھوم رہا ہے
مارا مارا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

ایک تو دل کے رستے بھی دشوار بہت ہیں
پھر میں پیاسا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

کوئ سایہ آگ میں جلنے والوں پر بھی
کوئ پروا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

رات کو اک پاگل نے شہر کی دیواروں پر
خون سے لکھا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

اچھے سائیں مان لیا دنیا ہے روشن
لیکن یہ کیا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے

کون تھا جس سے دل کی حالت کہتا میں
کس سے کہتا اچھے سائیں دھوپ بہت ہے۔

تیری آنکھ کا آنسو بن کر



وہ کہتی ہے
جاناں، جلدی آیا کر !
تجھ بِن اک اک پل صدیوں پر پھیلا رہتا ہے
تیری آس میں
جلتی بجھتی رہتی ہوں!!
میں کہتا ہوں
پاگل لڑکی
کب تک گھڑیاں گنتے گنتے
تُو یہ عمر گزارے گی
اک دن
وقت کا دریا تجھ کو
مجھ سے کوسوں دور کہیں لے جائے گا
اور میں وقت کا حصّہ بن کر رہ جائوں گا
تیری آنکھ کا آنسو بن کر
بہہ جائوں گا۔

دو وقتوں کی ایک نظم



محبت سے بھرا ایک دن
تیرے دامن میں کھلنے کے لئیے تیری سبک انداز
پلکوں پر اترتا ہے
تیری خوشبو میں کھلتا ہے
رگوں کی ڈوریوں میں باندھ کرمجھہ کو
تیرے حسن سخن انداز کی چوکھٹ پہ لاتا ہے
اور اس کے بعد آہستہ بہت آہستگی کے ساتھہ
دل کی ایک دھڑکن کی طرح معلوم ہوتا ہے
محبت سے بھرا ایک دن
محبت سے تہی ایک دن
جو دشت جاں میں سوکھے زرد پتے کی طرح سے
آکے گرتا ہے
رگوں کی ڈوریوں میں باندھ کر مجھہ کر
تیرے بے مہر حسن منجمند کے منحرف آئینہ خانے
تک تو لاتا ہے
محبت سے تہی ایک دن
مگر پھر تیری بے مہری کے
سانچے میں ڈھلے برفاب لمحوں سے
گزر کر بس زرا سی دیر کو
اس دل کے سائے میں ٹھہرتا ہے
اور اس کے بعد آہستہ بہت آہستگی کے ساتھہ
دل کی ایک دھڑکن کی طرح معدوم ہوتا ہے
محبت سے تہی ہے دن

Friday, June 1, 2012

تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے



تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے
جس نے مُبہم کئے ہیں سب منظر
جس نے نیندیں چُرا لی آنکھوں سے
جو کہ اٹکا ہوا ہے پلکوں پر
جس کے دَم سے دُھواں ہے سینے میں
جس کی آتش جلا ےء جذ بوں کو
جس کی قُربت بنی ہے اِک سُو زش
جس نے زخمی کیا ہے نظروں کو
تجھ کو احساس کب ۔۔ کہ اِس دل کے
کتنے جذبے لُٹے ہیں راہوں میں
کتنے صفحے پلٹ چکی ہوں تیرے
کتنے کانٹے چُبھے ہیں سانسوں میں
تُو میرے درد سے نہیں واقف
تیرے دل کا زِیاں ہوا ہی نہیں
میں نے چاہا پرستشوں میں تجھے
تجھ کو اِس کا گُماں ہوا ہی نہیں
تو جو ناآشنا ہے اب مجھ سے
مجھ سے کتنی کہانیاں تھیں تیری
کتنی صُبحیں کرینگی یاد مجھے
کتنی شامیں نشانیاں تھیں تیری
اب تو ایسے لگے ہے ، کہ جیسے
مجھ سے کتنی عداوتیں ہیں تیری
جتنا یکجا کروں ،، یہ بکھرینگی
ریزہ ریزہ رفاقتیں ہیں تیری
تم کو چُننے لگوں تو برسوں میں
میرے لمحے بدلنے لگتے ہیں
ہو کے مانوس میری عادت سے
میرے آنسو پگھلنے لگتے ہیں
تم سے مل کر مجھے یہ علم ہوا
کتنا نازُک وفا کا پہلو ہے
میں نے اکثر ہوا کی آہٹ میں
جس کی دستک سنی ہے وہ تو ہے
جس نے مُبہم کئے ہیں سب منظر
تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے

مگر میں جل رہا ہوں




بہت دن سے!
مجھے کچھ اَن کہے الفاظ نے بے چین کررکھا ہے
مجھے سونے نہیں دیتے
مجھے ہنسنے نہیں دیتے
مجھے رونے نہیں دیتے
یوں لگتا ہے!
کہ جیسے سانس سینے میں کہیں ٹھہری ہوئی ہے
یوں لگتا ہے!
کہ جیسے تیز گرمی میں
ذرا سی دیر کو بارش برس کے رک گئی ہے
گھٹن چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے
بہت دن سے!
مری آنکھوں میں سپنوں کی
کوئی ڈولی نہیں اُتری
بہت دن سے!
خیالوں میں‘ دبے پاؤں
کوئی اپنا نہیں آیا
بہت دن سے!
وہ سب جذبے!
جو میری شاعری کے موسموں میں رنگ بھرتے تھے
کہیں سوئے ہوئے ہیں
مرے الفاظ بھی کھوئے ہوئے ہیں
میں اُن کو ڈھونڈنے!
اِس زندگی کے دشت میں نکلا تو ہوں لیکن!
مجھے معلوم ہے‘ جذبے!
اگر اک بار کھو جائیں
تو پھر واپس نہیں ملتے
مجھے معلوم ہے پھر بھی!
ابھی اک آس باقی ہے
میں اب اُس آس کی انگلی پکڑ کر
چل رہا ہوں
بظاہر شبنمی ٹھنڈک مجھے گھیرے ہوئے ہے
مگر میں جل رہا ہوں
میں اب تک چل رہا ہوں

Thursday, May 31, 2012

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو




تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
کيا غم ہے جس کو چُھپا رہے ہو

آنکھوں ميں نمی، ہنسی لبوں پر
کيا حال ہے، کيا دکھا رہے ہو

بن جائيں گے زہر پيتے پيتے
يہ اشک جو پيتے جا رہے ہو

جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے
تم کيوں انہیں چھيڑے جا رہے ہو

ريکھاؤں کا کھيل ہے مقدّر
ريکھاؤں سے مات کھا رہے ہو

کیفی اعظمی

ہمارا کیا ہے؟




ہمارا کیا ہے کہ ہم تو چراغِ شب کی طرح
اگر جلے بھی تو بس اتنی روشنی ہوگی!
کہ جیسے تُند اندھیروں کی راہ میں جگنو
ذرا سی دیر کو چمکے چمک کے کھو جائے
پھر اِس کے بعد کسی کو نہ کچھ سُجھائی دے
نہ شب کٹے نہ سُراغ سحر دکھائی دے!
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو پسِ غبارِ سفر
اگر چلے بھی تو بس اِتنی راہ طَے ہوگی!
کہ جیسے تیز ہواؤں کی زد میں نقشِ قدم
ذرا سی دیر کو اُبھر کے مِٹ جائے
پھر اِس کے بعد نہ منزل نہ رہگذار ملے!
حدِ نگاہِ تلک دشتِ بے کنار ملے!!
ہماری سَمت نہ دیکھو کہ کوئی دیر میں ہم
قبیلئہ دِل و جاں سے بچھڑنے والے ہیں
بسے بسائے ہوُئے شہر اپنی آنکھوں کے
مثالِ خانۂ ویراں اُجڑنے والے ہیں
ہوَا کا شور یہی ہے تو دیکھتے رہنا
ہماری عُمر کے خیمے اُکھڑنے والے ہیں
اب اِس کے بعد تُمہارے لیے ہیں رنگ سبھی
سبھی رتیں سبھی موسم تمہی سے مہکیں گے!
ہر ایک لَوحِ زماں پر تمہارے نام کی مُہر
ہر ایک صُبح تمہاری جبیں پہ سجدہ گذار
طلوُعِ مہرِ درخشاں‘ فروغِ ماہِ تمام!
یہ رنگ و نوُر کی بارش تمہارے عہد کے نام
اَب اِس کے بعد یہ ہو گا کہ تُم پہ ہونا ہے
ورُودِ نعمت عُظمٰے ہو یا نزولِ عذاب!
تُمہی پہ قرض رہے گی تمہارے فرض میں ہے
دِلوں کی زخم شُماری غمِ جہاں کا حِساب
گناہِ وصل کی لذّت کہ ہجرتوں کا ثواب؟
تمام نقش تمہی کو سنوارنا ہوں گے!
رگوں میں ضبط کے نشتر اُتارنا ہوں گے!
اب اِس طرح ہے کہ گذرے دنوں کے ورثے میں
تمہاری نذر ہیں ٹکڑے شکستہ خوابوں کے
جلے ہوئے کئی خیمے دریدہ پیراہن
بُجھے چراغ لہو انگلیاں فگار بدن
یتیم لفظ ردا سوختہ انا کی تھکن
تُمہیں یہ زخم تو آنکھوں میں گھولنا ہوں گے
عذاب اور بھی پلکوں پہ تولنا ہوں گے
وہ یوُں بھی ہے کہ اگر حوصلے سلامت ہوں!
بہت کٹھن بھی نہیں رہگذارِ دشت جنوُں
یہی کہ آبلہ پائی سے جی نہ اُکتائے!
جراحتوں کی مشقّت سے دِل نہ گھبرائے!
رگوں سے درد کا سیماب اس طرح پھوٹے
نشاطِ کَرب کا عالَم فضا پہ طاری ہو!
کبھی جو طبل بجے‘ مقتلِ حیات سجے!
تو ہر قدم پہ لہوُ کی سبیل جاری ہو!
جو یوُں نہیں تو چلو اب کے اپنے دامن پر
بہ فیضِ کم نظری داغ بے شُمار سہی!
اُدھر یہ حل کہ موسِم خراج مانگتا ہے
اِدھر یہ رنگ کہ ہر عکس آئینے سے خجِل
نہ دل میں زخم نہ آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک
جو کچھ نہیں تو یہی رسمِ روزگار سہی!
نہ ہو نصیب رگِ گُل تو نوکِ خار سہی
جو ہو سکے تو گریباں کے چاک سیِ لینا!
وگرنہ تُم بھی ہماری طرح سے جی لینا
۔