Saturday, April 28, 2012

humain sab se juda rakhna



Bohat hi maan hai tum par

suno paas wafa rakhna 

sabhi se tum milo lekin 

zara sa fasla rakhna 

bicharna bhi to parta hai 

zara sa hosla rakhna 

wo saray wasl k lamhey

tum aankhon main saja rakhna 

abhi imkaan baki hai 

abhi lab par dua rakhna 

bohat naayaab hain dekho 

humain sab se juda rakhna

Mujhe arzoo e sehar rahi


Mujhe arzoo e sehar rahi 

Yuhi raat bhar bari dair tak 

Na bikhar saka na simat saka 

Yuhi raat bhar bari dair tak 

Tha bohat azab aur akale hum 

Shab e gham bhi meri tweel ter 

Rahi zindagi bhi sraab aur 

Rahi ankh tar bari dair tak 

Yahain her taraf hai ajab samah 

Sabhi khud pasand sabhi khud numa 

Dil e beqarar ko na mil saka 

Kohi chara gar bari dair tak 

Mujhe zindagi hai aziz tar 

Issi waste mere hamsafar 

Mujhe qatra qatra pila zahar 

Jo kare asar bari dair tak

ہجر کا موسم ٹھہر گیا ہے

ہجر کا موسم ٹھہر گیا ہے

اس نے پوچھا تھا

سارے سپنے ٹوٹ گئے کیا؟

میں نے کہا 

کچھ کچھ باقی ہیں

اس نے پوچھا 

خود سے باتیں کرنے کی عادت ہے کب سے ؟

تحفہ دیا ہے میں نے بتایا ، تنہائی نے

نین کٹورے، گال گلابی، روپ سنہرا ، کیا کر ڈالا؟

میں نے کہا دل کے آنگن میں

ہجر کا موسم ٹھہرگیا ہے






مجھے بس اِتنا یاد ہے !

مجھے بس اِتنا یاد ہے !

جب میں نے کہا تھا

جاناں !

میں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا

خواہ وہ کیسی بھی ہو ؟

یہ سُن کر اُس نے میرا ہاتھ تھام لیا تھا

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی

میرے ہاتھ پر دو نیم گرم قطرے گرے تھے

وہ میرے سینے سے لگ کر بولی تھی

مَیں جانتی ہوں ۔!!

تم مجھ سے بہت محبت کرتے ھو نا !

بھلے وہ دیکھ نہ پائی تھی مگر

آنکھیں تو میری بھی بھر آئیں تھیں

مگر یہ آج کیا ہو گیا ہے ؟

کہ ہمیں ترکِ تعلق نے آ گھیرا ہے

وہ کہتی ہے 

تم مجھے بھول کیوں نہیں جاتے

میں کہتا ہوں

بھول کر بھی تمہیں بھول نہیں سکتا

وہ کہتی ہے

تم خود ہی تو کہا کرتے ھو

جاناں ! 

مَیں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا

خواہ وہ کیسی بھی ہو ۔ ۔


Qitta