ہجر کا موسم ٹھہر گیا ہے
اس نے پوچھا تھا
سارے سپنے ٹوٹ گئے کیا؟
میں نے کہا
کچھ کچھ باقی ہیں
اس نے پوچھا
خود سے باتیں کرنے کی عادت ہے کب سے ؟
تحفہ دیا ہے میں نے بتایا ، تنہائی نے
نین کٹورے، گال گلابی، روپ سنہرا ، کیا کر ڈالا؟
میں نے کہا دل کے آنگن میں
ہجر کا موسم ٹھہرگیا ہے
اس نے پوچھا تھا
سارے سپنے ٹوٹ گئے کیا؟
میں نے کہا
کچھ کچھ باقی ہیں
اس نے پوچھا
خود سے باتیں کرنے کی عادت ہے کب سے ؟
تحفہ دیا ہے میں نے بتایا ، تنہائی نے
نین کٹورے، گال گلابی، روپ سنہرا ، کیا کر ڈالا؟
میں نے کہا دل کے آنگن میں
ہجر کا موسم ٹھہرگیا ہے
No comments:
Post a Comment