Wednesday, May 16, 2012

یہ شیشے یہ سپنے یہ رشتے یہ دھاگے





یہ شیشے یہ سپنے یہ رشتے یہ دھاگے


کسے کیا خبر ہے کہاں ٹوٹ جائیں


محبت کے دریا میں تنکے وفا کے


نہ جانے یہ کس موڑ پر ڈوب جائیں




عجب دل کی بستی عجب دل کی وادی
ہر اک موڑ موسم نئی خواہشوں کا




لگائے ہیں ہم نے بھی سپنوں کے پودے


مگر کیا بھروسہ یہاں بارشوں کا




مرادوں کی منزل کے سپنوں میں کھوئے


محبت کی راہوں پہ ہم چل پڑے تھے


ذرا دور چل کے جب آنکھیں کھلیں تو


کڑی دھوپ میں ہم اکیلے کھڑے تھے




جنہیں دل سے چاہا جنہیں دل سے پوجا


نظر آرہے ہیں وہی اجنبی سے


روایت ہے شاید یہ صدیوں پرانی


شکایت نہیں ہے کوئی زندگی سے




سدرشن فاکر

No comments:

Post a Comment