ہم وہ بے درد ہیں
خواب گنوا کر بھی
جنہیں نیند آ جاتی ہے
سوچھ سوچھ کر بھی جن کے
زہنوں کو کچھ نہیں ہوتا
ٹوٹ پھوٹ کر بھی جن کے دل
دھڑکنا یاد رکھتے ہیں
ہم وہ بے درد ہیں
کہ جن کے آنسو آنکھوں کا رستہ بھول جاتے ہیں
ٹوٹ کر رُونے کی خواہش میں جو
بات بے بات مُسکراتے ہیں
شام سے پہلے مر جانے کی خوہش میں جو جیتے ہیں
اور جیتے ہی چلے جاتے ہیں
جیتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔
ہم وہ بے درد ہیں

No comments:
Post a Comment