Wednesday, May 16, 2012

ہم کیا کرتے کس راہ چلتے


ہم کیا کرتے کس راہ چلتے
ہر راہ میں کانٹے بکھرے تھے
اُن رشتوں کے جو چھوٹ گئے
اُن صدیوں کے یارانوں کے
جو اِک اِک کرکہ چھوٹ گئے
جس راہ چلے ، جس سمت گئے
یوں پاؤں لہولہان ہوئے
سب دیکھنے والے کہتے تھے
یہ کیسی ریت رچائی ہے
یہ مہندی کیوں لگائی
وہ کہتے تھے ، کیوں قحطِ وفا
کا ناحق چرچا کرتے ہو
پاؤں سے لہو کو دھو ڈالو
یہ راہیں جب اَٹ جائیں گی
سو رستے ان سے پھوٹیں گے
تم دل کو سنبھالو جس میں ابھی
سو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے

No comments:

Post a Comment