Monday, May 21, 2012

اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے


نامہ بر اپنا ھواؤں کو بنانے والے
اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے
کیا ملے گا تجھے بکھرے ھوئے خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے
سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
جس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے
مر گئے ہم تو یہ کتبے پہ لکھا جائے گا
سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے
در و دیوار پہ حسرت سی برستی ھے قتیل
جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے

No comments:

Post a Comment