Wednesday, May 30, 2012

ہم رہے پر نہیں رہے آباد



ہم رہے پر نہیں رہے آباد
یاد کے گھر نہیں رہے آباد

کتنی آنکھیں ہوئی ہلاک ِ نظر
کتنے منظر نہیں رہے آباد

ہم کہ اے دل سخن تھے سر تا پا
ہم لبوں پر نہیں رہے آباد

شہرِ دل میں عجب محلے تھے
جن میں اکثر نہیں رہے آباد

جانے کیا واقعہ ہوا، کیوں لوگ
اپنے اندر نہیں رہے آباد

No comments:

Post a Comment