تمہیں کیا ہوگیاجاناں ؟
کبھی چاہت بھرے لمحے گنواتے ہو
کبھی خوابوں سے تعبیریں چُراتے ہو
اور آتش دان میں ‘اپنے ہی لکھے خط جلاتے ہو
کبھی دیوار سی پانی کے سینے پر بناتے ہو
کبھی تحریر میں تصویر لاتے ہو
کبھی تم ریت پر بنتی لکیروں کو مِٹاتے ہو
ہواؤں کو یہ سارا کام کرنے دو
محبت کو سحر کو‘اُس کو ہی شام کرنے دو
وَفا گُمنام ہونے دو ‘ جفا کو عام کرنے دو
ہواؤں کو یہ سارا کام کرنے دو
فاخرہ بتول

No comments:
Post a Comment