Monday, May 28, 2012

راہ آسان ہو گئی ہو گی



راہ آسان ہو گئی ہو گی
جان پہچان ہو گئی ہو گی

موت سے تیرے درد مندوں کی
مشکل آسان ہو گئی ہو گی

پھر پلٹ کر نگہ نہیں آئی
تجھ پہ قربان ہو گئی ہو گی

تیری زلفوں کو چھیڑتی تھی صبا
خود پریشان ہو گئی ہو گی

اُن سے بھی چھین لو گے یاد اپنی
جِن کا ایمان ہو گئی ہو گی

دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ
ہاں مری جان ہو گئی ہو گی

مرنے والوں پہ سیف حیرت کیوں
موت آسان ہو گئی ہو گی

سیف الدین سیف

No comments:

Post a Comment