Monday, May 28, 2012

کسی کو الوداع کہنا







کسی کو الوداع کہنا 
بہت تکلیف دیتا ہے 
امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں 
یقیں پر بے یقینی کا کچھ ایسا کہر چڑھتا ہے 
دکھائی کچھ نہیں دیتا ، سجھائی کچھ نہیں دیتا 
دعا کے لفظ ہونٹوں پر مسلسل کپکپاتے ہیں 
کسی خواہش کے اندیشے 
ذہن میں دوڑ جاتے ہیں 
گماں کچھ ایسا ہوتا ہے 
کے جیسے مل نہ پائیں گے 
یہ گہرے زخم فرقت کے ، کسی سے سل نہ پائیں گے
کبھی ایسا بھی ہو یا رب 
دعائیں مان لیتا ہے 
تو کوئی معجزہ کر دے ، تو ایسا کر بھی سکتا ہے
میرے ہاتھوں کی جانب دیکھ انہیں تو بھر بھی سکتا ہے
جدائی کی یہ تیکھی دھار دلوں کا خوں کرتی ہے
جدائی کی اذیت سے 
میرا دل اب بھی ڈرتا ہے 
جدائی دو گھڑی کی ہو تو کوئی دل کو سمجھائے
جدائی چار پل کی ہو تو کوئی دل کو بہلائے 
جدائی عمر بھر کی ہو
تو کیا چارہ کرے کوئی 
کہ اک ملنے کی حسرت میں بھلا کب تک جئے کوئی 
مرے مولا کرم کر دے تو ایسا کر بھی سکتا ہے
میرے ہاتھوں کی جانب دیکھ ، اِنہیں تو بھر بھی سکتا ہے

No comments:

Post a Comment