Sunday, May 20, 2012

خاموشی چپ نہیں رہتی


زبانیں گنگ بھی ہو جائیں
تو نظریں چپ نہیں رہتیں
کہ جذبوں کو معنی کے پہناوے 
دینے والے سب کے سب 
الفاظ کہیں کھو بھی جائیں تو
غمِ دل کی سسکتی آہ بپا طوفان رکھتی ہے
زبانیں گنگ بھی ہو جائیں
تو کانوں میں بھٹکتی سی 
میری بے جان خواہش کی صنم وہ آخری ہچکی
بہت ہلکان رکھتی ہے
مجھے پہروں رلاتی ہیں تیری پُر سوز نگاہیں
تیرا خاموش سا ماتم
مرے جینے کی تمنا
مرے مرنے کا وہ عالم
کہاں الفاظ کی محتاج ہوتی ہیں کہو آہیں؟
کہ تم نے بھی سہا ہوگا کوئی چپ چاپ سا لمحہ
کوئی خاموش سا وہ پل کہ صدیوں پہ جو بھاری ہو
کبھی وہ تلخی ء دوراں کہ زہر سے بھی کاری ہو
مسافر سن !
سفر خاموش بھی رہ لے تو بولیں گی کٹھن راہیں
’زبانیں گنگ بھی ہو جائیں تو نظریں چپ نہیں رہتیں‘
اٹھا رکھتی ہے ہنگامے
میرے ہمدم، میرے ہمدم!
خاموشی چپ نہیں رہتی

No comments:

Post a Comment