Saturday, June 16, 2012

کسی کے چھوڑ جانے سے




کسی کے چھوڑ جانے سے
کسی کے بھول جانے سے
ہماری ذات مرتی ہے
ہماری روح روتی ہے


کہ ہم زندہ تو ہوتے ہیں
مگر دھڑکن کی نگری سے
کوسوں دور ہوتے ہیں
کبھی سانسوں کی گردش کو
پامال کرتے ہیں
کبھی خوشیوں کی دستک کو
تیرگی خیال کرتے ہیں


مگر کوئی پوچھے یہ ہم سے
کسی کے چھوڑ جانے سے
کسی کے بھول جانے سے
تمھاراحال کیسا ہے؟
تو ادائے دلبری سے ہم
ہنس کر اس سے کہتے ہیں
کسی کے چھوڑ جانے سے
کسی کے بھول جانے سے
بھلا کون مرتا ہے

No comments:

Post a Comment