کئی بے قرار آنسو
آنکھوں سے بہہ نکلے تھے
آج کیا ہوا مجھ کو؟
اس طرح سے پہلے تو میں کبھی ٹوٹا نہ تھا
اس سفر زندگی میں کئی موڑ دیکھے تھے
کئی درد کے لمحے، کئی سوگ کی راتیں
کئی روگ کی باتیں
ہنس کے ہم نے سہہ لی تھیں
آنکھیں تب بھی چپ تھیں
دل گرچہ ٹوٹا تھا
پھر!!!
آج کیا ہوا مجھ کو؟
اس طرح سے پہلے تو میں کبھی نہ ٹوٹا تھا
پر تب کی بات اور تھی شاید
“اب کے خواب ٹوٹا ہے“
مدتوں جسے میں نے آنکھوں میں بسایا تھا
ہاں میرا وہی سپنا
مجھ سے آج چھوٹا ہے
تب کی بات اور تھی شاید
“اب کے خواب ٹوٹا ہے

No comments:
Post a Comment