Saturday, July 28, 2012

یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں




یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں
ان میں خوابیدہ سب زمانے ہیں
سارے پھول ان کے نام لیوا ہیں
چاند تاروں میں ان کی باتیں ہیں
ان کی باہوں میں سب سمندر ہیں
گیت دریا انہی کا گاتے ہیں
ان سے چلتی ہے عشق کی دنیا
شعر سب ان کی وارداتیں ہیں
آسماں ان کا اک تصور ہے
وقت بے چارہ ان کا نوکر ہے
ان کی ہر بات مے کا پیالہ ہے
ان سے ہر سمت پہ اجالا ہے
ان میں گزرے دنوں کا جادو ہے
ان میں آتی رُتوں کی خوشبو ہے
چاندنی ان میں دھوپ ان میں ہے
حسن کا سارا روپ ان میں ہے
دکھ کی گہرائیاں بھی ان میں ہیں
سکھ کی انگڑائیاں بھی ان میں ہیں
ان میں خوابوں کی وہ کتاب بھی ہے
دل کا ٹوٹا ہوا رباب بھی ہے
میری ساری خوشی انہی سے ہے
دل میں یہ روشنی انہی سے ہے
یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں

Tuesday, July 24, 2012

آج کی شام گنوانے کے لئے





آج کی شام ہوا ہے نہ گھٹا
آسماں چادرِ تاریک، تہی
کرب کا پھیلتا صحرائے فنا
لوگ کہتے ہیں کہ دو چار گھڑی
چاند نکلا تھا مگر ڈوب گیا

دُور سوکھے ہوئے پیڑوں کے ہجوم
جیسے قبروں پہ صلیبوں کے نشاں
جیسے کاٹے ہوئے ہاتھوں کے علم
صحن زنداں میں ہر اک سمت اترتے سائے
جیسے ناؤ کو نگلتی ہوئی طغیانی نیل
جیسے کعبہ کی طرف بڑھتا ہوا لشکرِ فیل
میں نے کھڑکی کی سلاخوں میں کہیں
چاند سورج کی بنا کر شکلیں
ایک تصویر سجا رکھی ہے
ایک سُولی سی لگا رکھی ہے
رسمِ مقتل ہے یہی
کل بہت پھوٹ کے روئی تھی گھٹا
جیسے اُمید کوئی ٹوٹ گئی

اتنا پانی ہے کہ ہم غرق بھی ہو سکتے ہیں
آؤ کاغذ سے کوئی ناؤ بنا لیتے ہیں

رسمِ زنداں کو نبھانے کے لئے
آج کی شام گنوانے کے لئے

نارسائی




سنو!
اگر فرصت ملے اور میں یاد آؤں
یاد رکھنا
مجھے آنسو کی طرح
پلکوں پر مت سجا لینا
کہ آنسو اور پلکوں میں
جدائی کا رشتہ ہے
نارسائی کا رشتہ ہے
بیوفائی کا رشتہ ہے 
سنو!
جو پل میری جدائی میں گزرے ہیں
نارسائی میں گزرے ہیں
بیوفائی میں گزرے ہیں
انہیں تم بھلا دینا
ہاں!مگر
میری بات اور ہے
میں چاہوں بھی تو
تیرے حصار سے نکل نہیں سکتا
جی تو جاؤں گا پر سنبھل نہیں سکتا
میرے چارہ گر
تجھے کیا خبر
میں تو عمر بھر
تیرے ساتھ تھا
تیرے ساتھ ہوں
چاہوں بھی تو بدل نہیں سکتا

Sunday, July 22, 2012

ہم مسافر ہیں میری جان مسافر تیرے






ہم مسافر ہیں میری جان مسافر تیرے
ہم تو بارش سے بھی ڈر جاتے ہیں
اور دھوپ سے بھی
اپنے قدموں کے نشانوں سے مٹائیں جو لہُو کے دھبے
راستے غصے میں آ جاتے ہیں
ہم مسافر ہیں
کرایوں کو ترستے ہوئے خیموں میں گھِرے
گھر سے گھبرائے ہوئے یونہی ہوا کرتے ہیں
اجنبی شہروں کے واہموں میں پڑے
خوف اور عدم تحفظ سے چُراتے ہیں نگاہیں
تو کہیں اور ہی جا پڑتے ہیں
کب تلک کون ہمیں رکھے گا مہمان محبت کے سِوا
اور کسی روز ہمیں یہ بھی کہے گی کہ خدا ہی حافظ
ہم جو لوگوں سے جھجھکتے ہیں تو مجبُوری ہے
ہم جو رستوں میں بھٹکتے ہیں تو محصُوری ہے
ہم مسافر ہیں میری جان مسافر تیرے
ہم اگر تجھ سے بچھڑتے ہیں تو مہجُوری ہے

تمہیں کتنا یہ بولا تھا



تمہیں کتنا یہ بولا تھا
کہ میری زندگی میں اس طرح شامل نہیں ہونا
جب آنکھیں صبح کو کھولوں
پکاروں نام میں تیرا
کبھی جب آئینہ دیکھوں
تمہارا عکس میری آنکھ کی پتلی میں جم جائے
خوشی مجھ کو ملے کوئی،
تمہارا ساتھ میں ڈھونڈوں
دکھوں میں بھی یہی چاہوں
کہ میرے پاس ہو بس تم
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے بادل سے، بارش سے،
محبت ہے ہمیشہ سے
مگر تم نے محبت کو جنوں میں کیوں بدل ڈالا
میں اب بارش کے موسم میں
تمہی کو ڈھونڈتا کیوں ہوں؟
انہی سوچوں میں بھیگا ہوں
میں تنہا بھیگتا کیوں ہوں
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مری عادت نہیں بدلو
مری خاطر نہیں بدلو
مگر تم نے بدل ڈالا
مرا سب کچھ بدل ڈالا
میں اب جو خود کو تکتا ہوں
مجھے تم یاد آتی ہو
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے تم یاد مت آنا
کہ تم کو بھولنا ویسے ہی
میرے بس سے باہر ہے
مجھے جب یاد آتی ہو
تو یہ محسوس ہوتا ہے
مجھے تم یاد کرتی ہو
تمہیں کتنا یہ بولا تھا
مجھے تم یاد مت کرنا 
مجھے تم یاد مت آنا
مری اس زندگی میں
اس طرح شامل نہیں ہونا
تمہیں کتنا یہ بولا تھا