Saturday, June 30, 2012

ان جھيل سی گہری آنکھوں ميں اک شام کہيں آباد ہو





ان جھيل سی گہری آنکھوں ميں اک شام کہيں آباد ہو
اس جھيل کنارے پل دو پل
اک خواب کا نيلا پھول کھلے
وہ پھول بہاديں لہروں ميں
اک روز کبھی ہم شام ڈھلے
اس پھول کے بہتے رنگوں ميں
جس وقت لرزتا چاند چلے
اس وقت کہيں ان آنکھوں ميں اس بسر ے پل کی ياد تو ہو
ان جھيل سی گہری آنکھوں میں اک شام کہيں آباد تو ہو 
پھر چاہے عمر سمندر کی
ہر موج پريشاں ہو جائے
پھر چاہے آنکھ دريجے سے
ہر خواب گريزاں ہوجائے
پھر چاہے پھول کے چہرے کا
ہر در نمايا ہو جائے
اس جھيل کنارے پل دو پل وہ روپ نگر ايجاد تو ہو
دن رات کے اس آئينے سے وہ عکس کبھی آزاد تو ہو

ان جھيل سے گہری آنکھوں ميں اک شام کہيں آباد تو ہو



No comments:

Post a Comment